میری ماں
میری ماں — صبر و ایمان کی روشنی
میری ماں تین دن کی عمر میں یتیم ہو گئیں۔
بچپن نے اُنہیں بہت کچھ سکھایا — محرومی بھی، حوصلہ بھی۔
زندگی کے سخت موسموں نے اُنہیں جھکنا نہیں، جِینا سکھایا۔
شادی کے بعد گاؤں کے مشکل کام، زمانے کے سخت رویّے —
مگر ماں نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔
وہ نرم دل، صاف نیت، اور محنت کی مورت تھیں۔
نہ کسی کا بُرا چاہا، نہ کسی کے حق میں کمی کی۔
جو کچھ تھا، دوسروں کے لیے تھا۔
اپنے لیے نہیں مانگا، نہ کبھی دنیا کے شوق میں پڑیں۔
ان کا دل سونا نہیں، نور سے بھرا ہوا تھا۔
پھر اللہ نے اُنہیں حج کی سعادت عطا فرمائی —
یہ سب سے بڑی گواہی تھی کہ وہ اللہ کی محبوب تھیں۔
تین سال بیماری جھیلی، مگر صبر کے ساتھ۔
اور جب گئیں… تو سب کچھ چھوڑ گئیں،
لیکن پیچھے اپنے اخلاص، صبر اور محبت کی خوشبو چھوڑ گئیں۔
میری ماں — ایک عام سی عورت نہیں،
وہ صبر اور ایمان کی ایک زندہ مثال تھیں۔
اللہ اُن کی قبر کو نور سے بھر دے،
اور اُن کے جیسا دل ہمیں عطا فرمائے۔ 🤲🏻

Comments
Post a Comment