رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم تیر اندازی اور گھڑ سواری سیکھو"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تیر اندازی (نشانہ بازی) اور گھڑ سواری سیکھو"
اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان جسمانی طور پر مضبوط ہوں، دفاع کی صلاحیت رکھیں اور مہارتیں سیکھیں جو زندگی اور حفاظت میں کام آئیں۔
ایک اور روایت میں آتا ہے:
"أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ"
(سن لو! طاقت تیر اندازی ہے)
— یعنی نشانہ بازی کو خاص اہمیت دی گئی۔
آسان الفاظ میں مطلب:
نشانہ بازی = فوکس، مہارت اور دفاع
گھڑ سواری = طاقت، توازن اور بہادری
حدیث (عربی متن):
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:
أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ
حوالہ: صحیح مسلم (حدیث نمبر 1917)
اردو ترجمہ:
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"خبردار! قوت (طاقت) تیر اندازی ہے، خبردار! قوت تیر اندازی ہے، خبردار! قوت تیر اندازی ہے"
ایک اور متعلقہ روایت:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم تیر اندازی اور گھڑ سواری سیکھو"
حوالہ: (سنن بیہقی وغیرہ میں مفہوم موجود ہے)
آسان وضاحت:
"قوت" سے مراد صرف جسمانی طاقت نہیں بلکہ مہارت اور تیاری بھی ہے
اس زمانے میں تیر اندازی اور گھڑ سواری دفاع اور بقا کے اہم وسائل تھے
آج کے دور میں اس کا مطلب ہے:
خود کو فٹ، مضبوط اور اسکلڈ رکھنادونوں کا مقصد = جسمانی فٹنس + خود کی حفاظت

Comments
Post a Comment