مکہ کا پڑھا لکھا جاہل"




"جہالت دنیوی تعلیم سے ختم ہوتی تو مکہ کا لکھا آدمی ابو جہل نہ کہلاتا"    

تشریح

مطلب



شاعر یا مصنف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر جہالت صرف اسکول یا دنیاوی علم حاصل کرنے سے ختم ہو سکتی،



تو مکہ کا سب سے تعلیم یافتہ، سمجھدار اور عقل مند سردار — یعنی ابو جہل — کبھی "جہالت کا باپ" نہ کہلاتا۔



ابو جہل کون تھا؟



اصل نام: عمرو بن ہشام



قریشِ مکہ کا بہت بڑا سردار، عالم، اور فصیح و بلیغ شخص تھا۔



اُس نے اسلام کی سچائی پہچان لی تھی مگر غرور، ضد اور دنیاوی طاقت کی خاطر نبی ﷺ کی بات قبول نہیں کی۔



اس کے اسی رویے کی وجہ سے قرآن نے اسے "ابو جہل" یعنی "جہالت کا باپ" کہا۔



نکتہ / سبق:



جہالت کا مطلب صرف ناپڑھائی یا لکھائی کی کمی نہیں ہے۔



بلکہ حق کو نہ ماننا، سچ کو جھٹلانا، اور تکبر کرنا بھی جہالت ہے۔



دنیاوی تعلیم انسان کو پڑھا لکھا تو بنا سکتی ہے، مگر باشعور، نیک، انصاف پسند نہیں —



جب تک اُس کے ساتھ اخلاقی اور روحانی تربیت نہ ہو۔



آج کے دور سے تعلق:



آج بھی کئی لوگ ڈگری یافتہ ہیں، مگر سچائی، عدل، رحم اور ایمان سے خالی ہیں۔



وہ بھی دراصل “ابو جہل” جیسے جاہل ہی ہیں — بس جدید لباس میں۔



خلاصہ:



“اصل علم وہ ہے جو انسان کو انسان بنائے،



ورنہ ابو جہل بھی مکہ کا پڑھا لکھا شخص تھا۔”

Comments

Popular posts from this blog

جمع تقسیم

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم تیر اندازی اور گھڑ سواری سیکھو"

منزل تیری قبر ہے