ماں کی یاد میں
رفیقِ قلم
"ایک ماں کی یاد میں لکھی گئی سچی کہانی"
دیباچہ
یہ کتاب کوئی افسانوی کہانی نہیں، بلکہ حقیقت کے دامن سے بندھی وہ داستان ہے جس کے ہر صفحے پر قربانی اور محبت کی روشن لکیریں جھلکتی ہیں۔
یہ کہانی خیرالنساء کی ہے—ایک ایسی ماں کی جس نے یتیمی کے سائے سے لے کر گھریلو ظلم، دکھ اور بیماری تک سب کچھ سہہ لیا، مگر اپنے بچوں کے لیے زندگی کو مسکراہٹوں سے بھرا رکھا۔
یہ داستان ان سب عورتوں کی نمائندگی بھی کرتی ہے جو اپنی ذات کو قربان کر کے اپنے گھرانے کو سنوارتی ہیں۔
انتساب
یہ کتاب اُس ماں کے نام،
جس نے دکھ سہہ کر بھی اپنے بچوں کو خوشی دی،
قربانی اور صبر کی وہ مثال بنی،
جو ہمیشہ دلوں میں زندہ رہے گی۔
باب اول – امید کی کرن، غم کی دستک
خیرالنساء کی پیدائش امید کی ایک روشنی تھی۔ والد نے ننھی بیٹی کو گود میں لیتے ہوئے کہا:
"میں اس بچی کو ڈاکٹر بناؤں گا۔"
مگر قسمت نے زندگی کی کتاب میں کچھ اور لکھ رکھا تھا۔ ابھی خیرالنساء تین دن کی بھی نہ تھیں کہ جائیداد کے لالچ نے ان کے والد کی جان لے لی۔
یوں ایک ماں اور تین معصوم بچیاں غم کے پہاڑ تلے دب گئیں۔ امید کے چراغ بجھ گئے اور یتیمی کا اندھیرا گھر میں پھیل گیا۔
باب دوم – یتیمی کا سایہ اور ماں کا فیصلہ
خیرالنساء کی والدہ نے اپنی بچیوں کے ساتھ زندگی کی کٹھن راہوں پر قدم رکھا۔ لوگ کبھی ہمدردی دکھاتے، کبھی مدد کرتے، مگر یتیمی کا زخم ہر دن تازہ رہتا۔
1965 میں حالات نے مجبور کیا کہ خیرالنساء کی ماں نے ایک ایسے شخص سے نکاح کیا جو پہلے ہی چھ بچوں کا باپ تھا۔ شرط یہ تھی کہ وہ بچیوں کی پرورش کرے گا۔
یوں ننھی خیرالنساء اپنی ماں کے ساتھ وہیں رہتی رہیں، مگر گھر کا ماحول بدل گیا۔ اب آزمائشوں کا ایک نیا سلسلہ ان کا منتظر تھا۔
باب سوم – گھر کی دہلیز پر زخم
وقت گزرا اور خیرالنساء کی شادی انہی کے سوتیلے باپ کے بیٹے سے کر دی گئی۔ شادی جسے اکثر لڑکیاں خوابوں کا آغاز سمجھتی ہیں، خیرالنساء کے لیے نئے دکھوں کا دروازہ بن گئی۔
ساس نے پہلے دن ہی کہا:
"یہ تو میری سوکن کی بیٹی ہے۔"
یہ طعنہ دل میں کانٹے کی طرح اتر گیا۔ سخت کام، مار پیٹ، اور ذرا سی غلطی پر ذلت نے زندگی کو دوزخ بنا دیا۔ ایک بار کپڑے رسی سے گر گئے تو دیور نے بے دردی سے مارا۔ وہ دن خیرالنساء کے وجود پر ایک اور داغ چھوڑ گیا۔
باب چہارم – محبت کا سایہ، بے بسی کا سہارا
شوہر نرم دل اور سادہ تھے۔ وہ خیرالنساء سے محبت تو کرتے تھے مگر ماں کی محبت اور بھائیوں کی سختی کے آگے خاموش ہو جاتے۔
وہ چاہ کر بھی ڈھال نہ بن سکے۔ یوں خیرالنساء کی زندگی دکھوں کے نئے باب لکھتی گئی۔ مگر ان کے لبوں پر کبھی شکوہ نہ آیا۔ صبر ان کی پہچان بن گیا۔
باب پنجم – اولاد کی مسکراہٹ، ماں کا صبر
زندگی نے ایک نئی خوشی دی جب خیرالنساء کی گود میں بیٹی آئی۔ مگر کچھ عرصے بعد وہ بچی پولیو کا شکار ہو گئی۔ خیرالنساء نے اس غم کو بھی صبر سے سہہ لیا۔
پھر بیٹے کی پیدائش ہوئی، لیکن وہ تین دن بعد ہی دنیا سے رخصت ہو گیا۔ ایک ماں کے لیے یہ زخم ناقابلِ بیان تھے، مگر خیرالنساء خاموش رہیں، جیسے دکھ ان کے لیے قسمت کا حصہ ہو۔
باب ششم – سکون اور غم کی راہیں
ابو کو گورنمنٹ میں ملازمت ملی، گاؤں اور شہر کے درمیان آنا جانا شروع ہوا۔ امید اور غم کا سفر ساتھ ساتھ چلتا رہا۔
1998 میں سب سے بڑا صدمہ آیا۔ بڑی بیٹی جو پولیو کی مریض تھی، انتقال کر گئی۔ یہ صدمہ خیرالنساء کے دل پر ایک ایسا بوجھ تھا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مگر انہوں نے گھر کو بکھرنے نہ دیا، باقی اولاد کو سنبھالا اور آگے بڑھتی رہیں۔
باب ہفتم – ماں کی جیت
غم سہنے کے باوجود خیرالنساء نے اپنی اولاد کے لیے زندگی کو سنوارا۔ بہن بھائیوں کی شادیاں ہوئیں، گھر میں خوشیاں آئیں۔ خیرالنساء اور ان کے شوہر حج کی سعادت سے بھی سرفراز ہوئے۔
وہ ہمیشہ کہتی تھیں:
"میری زندگی تم لوگوں کی خوشیوں کے لیے ہے۔"
ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ اولاد اپنے اپنے گھروں میں بس جائے۔
باب ہشتم – دعا کے دن اور بڑھاپے کی سانسیں
وقت گزرتا گیا۔ سب بہن بھائیوں کی شادیاں ہو گئیں، صرف دو بچے باقی تھے۔ خیرالنساء کی دعائیں یہ تھیں:
"یا اللہ! یہ دونوں بھی اپنے گھروں میں بس جائیں، پھر مجھے کوئی غم نہیں رہے گا۔"
اللہ نے ان کی دعا قبول کی۔ دونوں کی شادیاں ہوئیں تو انہوں نے سکون کی سانس لی۔
باب نہم – بیماری کا لوٹ آنا
خیرالنساء کو شوگر کا معمولی مرض تھا۔ وہ دوا کی بجائے پرہیز سے گزارہ کر لیتی تھیں۔ مگر وقت کے ساتھ کمزوری بڑھنے لگی، بخار رہنے لگا۔
پرانی بیماری (TB) کا علاج مکمل ہو چکا تھا، لیکن اب ایک نئی کمزوری نے انہیں پھر ہسپتال کے بستر تک پہنچا دیا۔ سرکاری ہسپتال میں ٹیسٹ کی تاریخیں دور کی ملتیں، اس لیے وہیں داخل کر دیا گیا تاکہ اصل وجہ معلوم ہو سکے۔
باب دہم – ہسپتال کے 22 دن اور آخری سفر
خیرالنساء ہسپتال میں 22 دن زیرِ علاج رہیں۔ انسولین دی جاتی، روز خون کے ٹیسٹ ہوتے۔ مگر کمزوری بڑھتی گئی۔ کھانے پینے سے دل اچاٹ ہو گیا۔
آخر دل پر ہاتھ رکھ کر گھبراہٹ محسوس ہوا، سانس رکنے لگا۔ ڈاکٹرز کے مطابق شوگر اور انفیکشن نے دل کو متاثر کیا، جبکہ بستر پر پڑے رہنے سے خون میں لوتھڑے بنے اور پھیپھڑوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
وینٹی لیٹر کی سہولت میسر نہ تھی۔ جب پرائیویٹ اسپتال منتقل کرنے کی کوشش ہوئی تو راستے ہی میں خیرالنساء اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔
اختتام اور دعا
خیرالنساء کی زندگی ایک نشان چھوڑ گئی:
یتیمی سے شروع ہونے والا سفر،
ظلم اور صبر کے دن،
قربانی اور محبت سے بھری داستان،
اور آخر میں سب کو بساکر رب کے حضور لوٹ جانا۔
یہ کہانی صرف خیرالنساء کی نہیں، بلکہ ہر اس ماں کی ہے جو اپنی اولاد کے لیے اپنی خوشیاں قربان کر دیتی ہے۔
🌸
اے اللہ! خیرالنساء کی مغفرت فرما،
ان کی قبر کو جنت کا باغ بنا دے،
اور ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔
آمین یا رب العالمین۔ ✨

Comments
Post a Comment