ایمان مفصل ایمان مجمل
1. ایمانِ مجمل
مختصر اور جامع عقیدہ
اس میں پورے ایمان کو ایک جملے میں بیان کیا گیا ہے۔
ایمانِ مجمل:
"آمنتُ باللّٰہِ کما ھوَ بأسمائِہٖ و صفاتِہٖ و قبلتُ جمیعَ أحکامِہٖ"
ترجمہ:
میں ایمان لایا اللہ پر جیسا کہ وہ اپنے ناموں اور صفات کے ساتھ ہے، اور میں نے اس کے تمام احکام کو دل سے قبول کیا۔
2. ایمانِ مفصل
تفصیلی عقیدہ
اس میں ایمان کی وہ چھ چیزیں بیان کی گئی ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔
ایمانِ مفصل:
"آمنتُ باللّٰہِ و ملائکتِہٖ و کتبِہٖ و رسلِہٖ و الیومِ الآخرِ و القدرِ خیرِہٖ و شرِّہٖ منَ اللّٰہِ تعالی و البعثِ بعد الموت"
ترجمہ:
میں ایمان لایا اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر، اچھی اور بری تقدیر پر جو اللہ کی طرف سے ہے، اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر۔
مختصر فرق
ایمان مجمل
ایمان مفصل
مختصر عقیدہ
تفصیلی عقیدہ
صرف مجموعی اعلانِ ایمان
ایمان کی چھ بنیادی چیزوں کی وضاحت
یاد کرنے میں بہت آسان
نسبتاً زیادہ تفصیل
ایمانِ مجمل اور ایمانِ مفصل برصغیر کے دینی نصاب (مکتب، مدارس، پرائمری تعلیم) میں صدیوں سے پڑھائے جانے والے عقائد ہیں۔
یہ دونوں کلمے حدیث کے اصل الفاظ نہیں بلکہ علماء اہلِ سنت نے قرآن و حدیث کے عقائد کو مختصر جملوں کی شکل میں ترتیب دیا تاکہ بچوں اور عام مسلمانوں کو آسانی سے عقیدہ یاد کروایا جا سکے۔
یہ کہاں سے لیے گئے ہیں؟
یہ قرآن و حدیث کے مجموعی عقائد کا خلاصہ ہیں۔ ان کی بنیاد یہ ہے:
ایمانِ مفصل
اس کی بنیاد اس حدیث پر ہے جسے سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آکر پوچھا تھا:
"ایمان کیا ہے؟"
نبی ﷺ نے جواب دیا کہ:
اللہ پر ایمان
اس کے فرشتوں پر
اس کی کتابوں پر
اس کے رسولوں پر
قیامت کے دن پر
تقدیر کے خیر و شر پر
(صحیح مسلم)
اسی حدیث کو آسان الفاظ میں جمع کیا گیا، جو آج “ایمانِ مفصل” کہلاتا ہے۔
ایمانِ مجمل
یہ بھی قرآن و حدیث کے عقائد کا انتہائی مختصر خلاصہ ہے، جو قدیم فقہ و عقائد کی درسی کتابوں (مثلًا بہشتی زیور، تعلیم الاسلام، کتبِ عقائد) میں صدیوں سے شامل ہے۔
خلاصہ:
یہ دونوں عبارتیں قرآن و حدیث کا نچوڑ ہیں۔
انہیں علماء نے ترتیب دیا تاکہ بچوں اور عام مسلمانوں کو عقیدہ آسانی سے یاد ہو جائے۔
یہ کلمہ کی طرح الفاظِ حدیث نہیں بلکہ تعلیمی خلاصے ہیں۔

Comments
Post a Comment